پیر 18 مئی 2026 - 15:20
ولایت فقیہ کی ضرورت امام رضاؑ کی تعلیمات کے تناظر میں

حوزہ/اسلام صرف تنہا انفرادی عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک مکمل سماجی اور سیاسی نظام ہے۔ غیبتِ کبریٰ کے دور میں اس نظام کے رکنے سے بچانے اور معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے "ولایتِ فقیہ" کا نظریہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

تحریر: مولانا سید صفدر حسین زیدی

مدیر جامعہ امام جعفر صادق علیہ السلام صدر امام بارگاہ جونپور

حوزہ نیوز ایجنسی|

اسلام صرف تنہا انفرادی عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک مکمل سماجی اور سیاسی نظام ہے۔ غیبتِ کبریٰ کے دور میں اس نظام کے رکنے سے بچانے اور معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے "ولایتِ فقیہ" کا نظریہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

۱. امام رضا علیہ السلام کی حدیث روشنی میں حکومت کا فلسفہ

امام رضا علیہ السلام نے فضل بن شاذان سے مروی ایک طویل روایت میں حکومت اور نگرانِ دین (ولی) کی ضرورت پر تین عقلی و نقلی دلائل فراہم کیے ہیں۔

حدودِ الٰہی کا تحفظ

اگر معاشرے کا کوئی امانتدار سرپرست (قیم) نہ ہو تو لوگ اپنی خواہشات کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کریں گے اور اللہ کی مقرر کردہ حدود کو توڑ دیں گے۔

نظامِ معاشرت و سماج کی بقا

انسانی تاریخ شاہد ہے کہ کوئی بھی قوم یا مذہب ایک سربراہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکا، کیونکہ امورِ دین و دنیا کی اصلاح ایک مرکزیت سنٹر پوائنٹ سے وابستہ ہے۔

دین کی تازگی اور بدعتوں کا سدِ باب اگر کوئی ہادی نہ ہو تو ملحدین دین میں شبہات پیدا کریں گے اور بدعتی لوگ احکام کو تبدیل کر دیں گے۔ ایک نگران ہی دین کو تحریف سے بچا کر اسے اصلی حالت میں برقرار رکھتا ہے۔

۲. امام رضاؑ کے نزدیک 'ولی' کی صفات

امام علیہ السلام کے ارشادات کے مطابق، غیبت کے دور میں جو فقیہ قیادت کا حقدار ہے، اس میں درج ذیل صفات کا ہونا لازمی ہے۔

علمِ کامل، اسے حلال و حرام اور زمانے کے تقاضوں کا مکمل ادراک ہو۔

عدالت و تقویٰ، وہ نفسانی خواہشات سے پاک اور عملی طور پر عادل ہو۔

تدبیر و شجاعت

وہ سیاسی حالات سے باخبر ہو اور امت کی صحیح سمت میں رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

۳. ولایتِ فقیہ پر آٹھ مستند روایات حوالہ جات کے ساتھ

نظریہ ولایت فقیہ کی تائید میں کتبِ احادیث سے درج ذیل روایات کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔

سلسلہ وار روایتیں ملاحظہ فرمائیں!

۱ توقیعِ مبارک (امام زمانہؑ) "فَارْجِعوُا فیها اِلی رُواةِ اَحادیثِنا..." جدید مسائل میں فقہاء کی طرف رجوع واجب ہے، وہ امام کی حجت ہیں۔

۲ مقبولہ عمر بن حنظلہ "فانی قد جعلتہ علیکم حاکماً" امام جعفر صادقؑ نے فقیہ کو ملت کا حاکم اور قاضی مقرر فرمایا ہے۔

۳ حدیثِ نبویؐ (خلفاء) "اللهم ارحم خلفائی..." راویانِ حدیث اور فقہاء کو رسول اللہؐ نے اپنا خلیفہ قرار دیا ہے۔

۴ کتاب تحف العقول "مجاری الامور... علی ایدی العلماء" امورِ مملکت اور احکام کا نفاذ علماء (فقہاء) کے ہاتھوں میں ہونا چاہیے۔

۵ حدیثِ امام حسینؑ (منیٰ) "معاشرے کے نظم و ضبط کی ذمہ داری علماء پر ہے" عوام (یتیمانِ آلِ محمد) کی سیاسی و سماجی سرپرستی علماء کا فریضہ ہے۔

۶ روایتِ امام موسیٰ کاظمؑ "الفقہاء حصون الاسلام..." فقیہ اسلام کی سرحدوں اور عقائد کا قلعہ (محافظ) ہے۔

۷ علل الشرائع (امام رضاؑ) "لو لم یجعل لھم اماماً قیماً..." اگر امام یا اس کا نائب نہ ہو تو دین کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

۸ حدیثِ وراثت "العلماء ورثة الانبیاء" انبیاء کے تمام اختیارات (سوائے نبوت) وارث ہونے کے ناطے فقیہ کو منتقل ہوتے ہیں۔

ولایتِ فقیہ کا عملی ثمر

اس نظریے کا بنیادی مقصد اسلام کے سماجی قوانین (جیسے خمس، زکوٰۃ، جہاد، حدود و تعزیرات) کو صرف کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے معاشرے میں نافذ کرنا ہے۔ ولایتِ فقیہ کے بغیر اسلام کا سیاسی ڈھانچہ معطل رہتا ہے، جبکہ اس کی موجودگی میں اسلام ایک طاقتور نظامِ زندگی بن کر ابھرتا ہے۔

نتیجہ

امام رضا علیہ السلام اور دیگر ائمہؑ کی تعلیمات سے یہ واضح ہے کہ غیبتِ صغریٰ ہو یا کبریٰ، مومنین کو لاوارث نہیں چھوڑا گیا۔ فقیہِ عادل کی اطاعت دراصل ائمہؑ کی اطاعت کا تسلسل ہے، جو معاشرے کو ظلمت سے نکال کر عدلِ الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔

حوالہ جات:

علل الشرائع

تحف العقول

وسائل الشیعہ

بحار الانوار

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha